مینک گاندھی کے بارے میں

میانک گاندھی ایک سرگرم کارکن، جو ایک بہتر ہندوستان کے تصور سے جُڑے ہوئے ہیں، ایک سیاست داں، ایک پُر عزم شخصیت، جو زمین پر رہ کر سوچنے اوردِل سے محسوس کرنے والے جذبات کا ایک نادر مجموعہ ہیں۔

میانک گاندھی، جو ملک کی ضروریات سے بخوبی واقف ہیں، ہمیشہ غریبوں اور غیرمراعات یافتہ لوگوں کی ترقّی اور ملک کی خوش حالی کے لئے کوشاں رہے ہیں اور ایسے منصوبوں سے جُڑے رہے ہیں، جو اِنسانی ہمدردی کا جذبہ رکھنے والوں ہی کے شایانِ شان ہوتے ہیں۔

میانک گاندھی کی پیدائش ۷ نومبر ۱۹۵۸کو ہوئی، اُنھوں نے ۱۹۷۷ میں بی ایس سی کیا اور بزنس منیجمنٹ میں ڈپلوما بھی حاصل کیا۔

میانک گاندھی، ایک ایسی رہنمائی کرنے والی روشنی جس نے انڈیا اگینسٹ کرپشن تحریک کی نمائندگی کرتے ہوئے، کور کمیٹی کے ایک رُکن کے طور پر، اس تحریک کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے کے لئے اپنی تمام طاقت و کوششیں لگا دیں جس کو ہندوستان کی آبادی کے سارے ہی طبقوں سے حمایت حاصل ہوئی۔

اُنھوں نے ملک کے کچھ بہترین قوانین اور تحریکوں کو بروِکار لانے میں ایک اہم کردار ادا کیا جیسے کہ رائیٹ ٹو اِنفورمیشن بِل اور نگارا راج بِل۔ اُنھوں نے ہزاروں میٹنگس سے خطاب کیا، جن میں مُختلف سرکاروں اور اِداروں کو پریزینٹیشنس دینے سے لیکر گلی کوچوں کی میٹنگس اور ۱۵۰۰۰لوگوں کے اجلاس سے خطاب بھی شامل ہے۔

ایک سیاسی اصلاح پسند کے طور پر وہ ایک عام آدمی کی طاقت پر پورا یقین رکھتے ہیں۔ اُنھوں نے شہریوں کی رائے کے مطابق اِلیکشن کے اُمّیدواروں کی شارٹ لسٹنگ کرنے میں بھی پہل کی۔ اُنھوں نے ممبئی شہر کی تعمیرِ نو کے لئے انتھک کوششیں جاری رکھیں اور مہاراشٹر ہاؤزنگ پالیسی کے تحت جھوپڑیوں اور چالوں کی تعمیرِ نو کا مسودہ تیّار کرنے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا۔

ان کی کارگزاریاں ہندوستان تک ہی محدود نہیں ہیں، انھوں نے شہری منصوبہ بندی کے موضوع پر کئی ممالک میں بین القوامی سیمینارز سے خطاب کیا۔

غریبوں اور کم مراعات یافتہ لوگوں کو ایک بہتر زندگی دلانے کے جذبے نے انھیں "جاگرت ناگرک منچ" کا بانی رُکن بنایا۔ اس کے علاوہ وہ "لوک ستّا" کے ڈاکٹر جے پرکاش نارائن اور "بھرشٹا چار ورودھی آندولن" کے شری انّا ہزارے کے شانہ بہ شانہ بھی کام کر چکے ہیں۔

اپنی روحانی تعمیر کے لئے جسم، ذہن اور روح کی ہیچیدگیوں کو سمجھنے کے لئے انھوں نے ہندوستانی علمی نظام، آیورویدا، یوگا، روحانیت اور فلسفے کا سنجیدگی سے گہرا مطالع کیا۔

"عام آدمی پارٹی" کی اِنقلابی آمد کے بعد، اب میانک گاندھی، اس کے نیشنل اکزیکیوٹو میمبر ہیں اور عام چناؤ کے لئے، ممبئی کی نارتھ ویسٹرن حلقے سے بہ حیثیت اُمّیدوار، اپنا نام درج کروا چکے ہیں۔

وہ اپنے حلقے کی ایک باعزّت عوامی شخصیت ہیں اور ملک کی دائمی اصلاح کے لئے عام شہریوں اور کلیدی سوچ رکھنے والے رہنما، دونوں کے ساتھ مل کرکام کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔